ابنا: امریکی وزیر خارجہ نے کابل میں افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے بعد افغان صدر کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ افغانستان میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف بڑا فوجی آپریشن جاری ہے۔ دیکھنا ہے کہ پاکستان اس نیٹ ورک کے خلاف کارروائی میں کتنا تعاون کرتا ہے؟ ۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکومت کا حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان پر دباو بڑھانے کا ارادہ ہے۔
پاکستان کو حقانی نیٹ ورک کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنا ہوں گی اور نیٹ ورک کو ملنے والی امدادبھی بند کرناہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں ہیلری کلنٹن نے کہاکہ طالبان پرامن مستقبل کاانتخاب کریں یاجارحانہ کارروائی کیلئے تیار ہوجائیں۔ افغانستان میں جنگ کے خاتمے کیلئے طالبان سے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں تاہم افغانستان کو دہشتگردوں کی پناہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ انہوں نے ایک بار پھر پاکستان سے دہشتگردی کے محفوظ ٹھکانے ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمسایہ ممالک کے تعاون سے ہی افغانستان میں امن مذاکرات ممکن ہیں۔ افغانستان کے مستقبل میں پاکستان کا کردار اہم ہے۔ امریکا پاکستان کو کامیاب دیکھنا چاہتا ہے ۔ ملاقات میں دہشتگردی کے خلاف جنگ، سابق صدر برہان الدین ربانی کے قتل کے بعد افغانستان اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔..........
/169